نیشنل اسکلز یونیورسٹی اور سرائیکی جرنلسٹس فورم مشترکہ میڈیا ٹریننگ سیشنز کریں گے
وائس چانسلر ڈاکٹر مختار نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی ورکنگ جرنلسٹس کے لیے خصوصی شارٹ کورسز متعارف کروائے گی
یونیورسٹی سرائیکی جرنلسٹس فورم کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے علاوہ دور دراز علاقوں میں بھی صحافیوں کے لیے بھی تربیتی سیشنز کرے، یاوربخاری
اسلام آباد:(جاگیرنیوز) نیشنل اسکلز یونیورسٹی
اسلام آباد اور سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان نے باہمی اشتراک سے میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ اور ورکنگ جرنلسٹس کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق تربیتی سیشنز شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا فیصلہ سرائیکی جرنلسٹس فورم پاکستان کے ایک وفد اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی،م اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں کیا گیا۔سرائیکی جرنلسٹس فورم کے وفد کی قیادت صدر یاور بخاری کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران جدید میڈیا، خصوصاً ڈیجیٹل میڈیا، ملٹی میڈیا جرنلزم، سوشل میڈیا مینجمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا جرنلزم اور فری لانسنگ جیسے شعبوں میں مہارت فراہم کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ تاکہ وہ جدید میڈیا کی ضروریات کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی ملک کی واحد جامعہ ہے جو بی ایس پروگرامز کے ساتھ ساتھ مختلف اہم شعبوں میں اسکل بیسڈ شارٹ کورسز بھی باقاعدگی سے منعقد کرتی ہے، جن کا مقصد نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی روایتی نظریاتی تعلیم کے بجائے عملی اور مہارت پر مبنی نظامِ تعلیم کو فروغ دے رہی ہے تاکہ بے روزگاری جیسے اہم قومی مسئلے کا مؤثر حل نکالاجا سکے۔صدر فورم یاور بخای نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی سرائیکی جرنلسٹس فورم کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں مقیم صحافیوں کے علاوہ ملک کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے بھی تربیتی سیشنز کا انعقاد کرے تاکہ انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بدلتے میڈیا رجحانات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیجیٹل کنٹینٹ کری ایشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔یاور بخاری نے وائس چانسلر کو بتایا کہ سرائیکی جرنلسٹس فورم یونیورسٹی کے ساتھ اشتراک میں ایسے جدید نوعیت کے کورسز شروع کرنے کا خواہاں ہے جن کے ذریعے صحافیوں اور میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور وہ بہتر روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں بھی ملازمتوں کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں جبکہ میڈیا انڈسٹری اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جس کے پیش نظر صحافیوں کو نئی مہارتیں سیکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔یاور بخاری نے مزید کہا کہ نیشنل اسکلز یونیورسٹی جیسے معتبر ادارے کے ساتھ اشتراک فورم کے لیے باعثِ اعزاز ہے اور اس تعاون کے ذریعے نہ صرف بیروزگار میڈیا گریجویٹس بلکہ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے ممکنہ جوائنٹ وینچرز، انٹرن شپ پروگرامز، سرٹیفیکیشن کورسز اور ریسرچ کولیبوریشن پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔فورم کے چیئرمین مجاہد بھٹی نے نیشنل اسکلز یونیورسٹی کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی پر وائس چانسلر ڈاکٹر مختار کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اشتراک میڈیا کے شعبے میں ایک مثبت اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔اس موقع پر فورم کی نائب صدر فرحت فاطمہ اور فنانس سیکریٹری طارق ناصر راؤ نے بھی فورم کے اغراض و مقاصد، جاری منصوبوں اور مستقبل کے پروگرامز سے وائس چانسلر کو آگاہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری صحافتی برادری کے لیے عملی اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے صحافیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے قومی میڈیا کو مزید مضبوط، مؤثر اور باصلاحیت بنایا جائے گا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد کے بانی وائس چانسلر ہیں۔ یہ ایک سرکاری جامعہ ہے جسےنوجوانوں کو روزگار کے لیے تیار کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا۔ یونیورسٹی کا بنیادی ہدف ایسی تعلیم فراہم کرنا ہے جو عملی، فنی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ڈاکٹر مختار کی قیادت میں نیشنل اسکلز یونیورسٹی نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ جامعہ کو یورپی ٹریننگ فاؤنڈیشن کی جانب سے “بیج آف ایکسیلنس” جیسے اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے، جو اس کے معیاری اور مہارت پر مبنی تعلیمی نظام کا اعتراف ہے۔نیشنل اسکلز یونیورسٹی تعلیم اور صنعت کے درمیان پائے جانے والے خلا کو کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے تحت جامعہ سرکاری و نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کر کے طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ان کی ملازمت کے مواقع میں اضافہ کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار ایک معروف بایوٹیکنالوجسٹ ہیں جنہوں نے امریکہ کی ڈریکسل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پاکستان کی متعدد جامعات میں اعلیٰ انتظامی اور قیادتی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔اسلام آباد میں قائم یہ جامعہ ڈاکٹر مختار کی قیادت میں مسلسل ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کی منڈی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے پروگرامز کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔




