امریکا، اور گرین لینڈ کے درمیان گرین لینڈ کی مستقل سکیورٹی کامعاہدہ طےہوگیا،صدر ٹرمپ
امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے،معاہدے کے تحت امریکا گرین لینڈ کے دفاع اور سکیورٹی کیلئے ضروری اقدامات کر سکے گا جبکہ امریکی مخالف ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے، فوجی موجودگی رکھنے یا حساس نوعیت کی سرمایہ کاری کرنے سے روکا جائے گا،ڈونلڈ ٹرمپ
ڈنمارک کے وزیرآعظم میٹے فریڈرکسن کے دفتر کے مطابق تینوں فریق آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط کریں گے، تاہم اس کے نفاذ سے قبل ضروری پارلیمانی کارروائی مکمل کرنا ہوگی
واشنگٹن: (جاگیر نیوز) امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان گرین لینڈ کی سکیورٹی سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت امریکا کو جزیرے کی سکیورٹی کے حوالے سے مستقل کردار حاصل ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان .
صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت سرامریکا گرین لینڈ کے دفاع اور سکیورٹی کیلئے ضروری اقدامات کر سکے گا جبکہ امریکی مخالف ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے، فوجی موجودگی رکھنے یا حساس نوعیت کی مایہ کاری کرنے سے روکا جائے گا، امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
ڈنمارک کے وزیرآعظم میٹے فریڈرکسن کے دفتر کے مطابق تینوں فریق آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط کریں گے، تاہم اس کے نفاذ سے قبل ضروری پارلیمانی کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔فریڈرکسن نے کہا کہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے خطے میں مشترکہ سکیورٹی کو مضبوط کرے گا اور ڈنمارک و گرین لینڈ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری ڈنمارک کے پاس برقرار رکھتے ہوئے امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کی راہ ہموار کرتا ہے۔گرین لینڈ میں پہلے ہی امریکا کا پِٹوفک سپیس بیس موجود ہے، جو میزائل وارننگ، دفاع اور خلائی نگرانی کیلئے اہم سمجھا جاتا ہے۔




