سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں،شرمیلا فاروقی

خالد مقبول صدیقی جمہوریت کا درس دینے سے پہلے اپنی جماعت کی آمریت نوازی اور سیاسی تاریخ کا بھی حساب دیں،شرمیلا

کراچی کے عوام آج بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ دہائیوں تک شہر کی سیاست پر اثرانداز رہنے والوں نے نفرت، لسانی تعصب اور بدامنی کے سوا اس شہر کو کیا دیا؟، سینیٹر وقار مہدی

کراچی:(جاگیر نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کا سندھ کی تقسیم کے بیان پر سخت ردعمل۔
سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی اور پی پی پی کراچی ڈویژن کی اطلاعات سیکریٹری و رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی جمہوریت کا درس دینے سے پہلے اپنی جماعت کی آمریت نوازی اور سیاسی تاریخ کا بھی حساب دیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں سینیٹر وقار مہدی اور شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کراچی کے عوام آج بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ دہائیوں تک شہر کی سیاست پر اثرانداز رہنے والوں نے نفرت، لسانی تعصب اور بدامنی کے سوا اس شہر کو کیا دیا؟ عوامی مینڈیٹ کو خاندانی سیاست قرار دینا سیاسی بددیانتی ہے، کیونکہ جمہوریت میں فیصلے جماعتوں کے رہنما نہیں بلکہ ووٹر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے تو جمہوریت کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں، لیکن جمہوریت کے نام پر آج اپنی سیاست چمکانے کی ناکام کوشش کرنے والوں کو پہلے اپنی سیاسی تاریخ کا سامنا کرنا چاہیے۔ پی پی پی رہنماؤں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ وہ آج بھی لسانی تقسیم اور نفرت کے پرانے ایجنڈے سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے فاروق ستار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھی ٹوپی اور اجرک پہننے سے سندھ سے محبت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ سندھ کی وحدت، ثقافت اور تاریخی شناخت کا احترام بھی کرنا پڑتا ہے۔ سندھ کی ثقافت محض نمائشی لباس نہیں بلکہ ہزاروں سالہ تہذیب، تاریخ، رواداری اور مشترکہ شناخت کا نام ہے۔ سینیٹر وقار مہدی اور شرمیلا فاروقی نے کہا کہ شاہراہ فیصل بند کرنے اور شہریوں کے راستے روکنے کی دھمکیاں دینے والے یاد رکھیں کہ کراچی کسی جماعت کی جاگیر نہیں کہ اسے یرغمال بنا لیا جائے۔ کراچی کے شہریوں کو یرغمال بنانے اور ان کی روزمرہ زندگی مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ نہ کبھی تقسیم ہوا ہے اور نہ کسی کو اسے تقسیم کرنے دیں گے؛ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ایم کیو ایم کو چاہیے کہ سندھ کی تقسیم اور لسانی نفرت کے نعرے چھوڑ کر عوام کو اپنی کارکردگی کا حساب دے۔ سیاست کا راستہ عوامی خدمت، ترقی اور مسائل کے حل سے گزرتا ہے، نفرت، دھمکیوں اور تقسیم کے نعروں سے نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں