قومی بیداری اور خودی: قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر:احمدخان اعوان
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی بقا اور عروج، ان اقوام کے جذبے، خودی، اور روحانی قوت میں پنہاں ہوتی ہے۔ ایک ایسی قوم جس کے نوجوان اپنی اصل پہچان سے واقف ہوں، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہوں، اور ایمان، تقوی، اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوں، وہ قوم بے سروسامانی کے باوجود شکست نہیں کھاتی۔قرآن مجید میں اللہ سبحان و تعالی نے ایمان اور اندرونی قوت کو کامیابی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ „غم نہ کرو، ہمت نہ ہارو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مؤمن ہو۔” (سورہ آلِ عمران آیت نمبر 139) – یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کسی قوم کی اصل بلندی اس کے ایمان میں ہے، نہ کہ صرف ہتھیاروں میں۔ ایک مؤمن قوم، جو اللہ پر بھروسہ رکھتی ہے، اپنے اندر خودی اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتی ہے، وہ کبھی شکست نہیں کھاتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: „طاقتور مؤمن، اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے کمزور مؤمن سے۔” (صحیح مسلم) – یہ طاقت صرف جسمانی نہیں، بلکہ ایمانی، فکری، اور اخلاقی قوت بھی اس میں شامل ہے۔ جب نوجوان اپنی روحانی، فکری، اور اخلاقی خودی کو پہچان لیتے ہیں، تو وہ قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ کو چھوڑتے وقت فرمایا: „اے مکہ! تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا۔”(ترمذی) یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ حب الوطنی فطری جذبہ ہے، اور نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ وطن کی محبت ایمان کے ساتھ متصادم نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔آج اگر مسلمان نوجوان اپنی خودی کو پہچان لیں، ایمان کو اپنا ہتھیار بنالیں، علم کو اپنا زادِ راہ بنائیں، اور وطن سے وفاداری کو اپنا مشن بنا لیں ، تو کسی دشمن کی تلوار ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔ قوموں کی تعمیر میدانِ جنگ سے نہیں، بلکہ میدانِ علم، عمل، قربانی، اور کردار سے ہوتی ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں، انہیں خودی، ایمان، علم، اور عمل کا راستہ دکھائیں تاکہ وہ اس قوم کو بیداری، ترقی اور عزت کی بلندیوں تک لے جا سکیں۔ اے اللہ! ہمارے نوجوانوں کو خودی کی پہچان، سچا ایمان، اور وطن سے محبت عطا فرما، تاکہ ہم ایک مضبوط، بیدار، اور کامیاب قوم بن سکیں۔ آمین یا رب العالمین




