یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

تحریر: ضیاء چترالی

قدرت کی شان بڑی نرالی ہے۔ جسے چاہا در پہ بلا لیا۔ جسے چاہا اپنا بنا لیا۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے

یہ بچہ ایک سال قبل تک عیسائی تھا اور آج مکہ مکرمہ میں 133 ملکوں کے درمیان ہونے والے قرآنی مقابلے میں شریک اور اپنے ملک کا نمائندہ ہے

ہے نا بڑی عجیب بات!!
برونڈی کے 14 سالہ پینترا بوشیما امین (Pentra Bushima Amin) کی داستان قدرت کی نرالی شان کی ایک خوب صورت مثال ہے۔
صرف ایک سال پہلے پینترا عیسائی تھا۔ ایک مسلمان دوست نے اسے اسلام کے بارے میں جاننے، اس کی تعلیمات، اقدار، اخلاق اور خوبیوں کو سمجھنے کی دعوت دی۔ دین فطرت کی خوبصورت تعلیمات اس کے دل میں ایسی اتریں کہ اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اس موقع پر اس کا خاندان بھی موجود تھا۔ پھر اللہ نے اس کے گھر پر مزید کرم فرمایا۔ اس بچے کے ایمان کی برکت سے اس کے والدین اور بہن سمیت خاندان کے چار افراد نے بھی اسلام قبول کرلیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد پینترا نے زیادہ وقت ضائع نہیں کیا۔ اس کا اگلا سفر قرآنِ کریم کے ساتھ شروع ہوا۔ پورے عزم اور سیکھنے کی سچی لگن کے ساتھ اس نے حفظِ قرآن شروع کیا اور حیرت انگیز طور پر صرف 5 ماہ میں رب کریم نے اپنا پورا کلام اس نو مسلم کے پاکیزہ سینے میں اتار دیا۔ حفظ مکمل۔لیکن اس نے صرف حفظ پر اکتفا نہیں کیا۔ اس کے بعد مسلسل قرآن دہراتا اور اپنے حفظ کو مضبوط کرتا رہا، یہاں تک کہ اسے اس طرح پختہ کر لیا کہ 30 پاروں میں کوئی غلطی تو دور کی بات، اٹکن تک نہیں۔
پھر قرآن کے ساتھ اس کا یہ سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ برونڈی میں ایک مقامی قرآنی مقابلہ منعقد ہوا، جس میں تقریباً 500 شرکاء نے حصہ لیا۔ دراصل یہ ریجنل مقابلہ سعودی عرب میں ہونے والے عالمی مقابلے کے نمائندہ منتخب کرنے کے لیے تھا۔ پینترا نے اس میں شرکت کی اور پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ پھر قدرت نے اس کے نصیب میں حجاز مقدس کی زیارت اور در حبیبؐ میں حاضری کی سعادت بھی لکھ دی، جس کا شاید اس نے خود بھی تصور نہ کیا ہو۔اسی کامیابی کی بنیاد پر اسے اپنے ملک برونڈی کی نمائندگی کے لیے سعودی عرب کے باوقار شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی مقابلۂ حفظ، تلاوت و تفسیر قرآن کریم کے لیے منتخب کر لیا گیا۔اور سعودی سرکاری خبر ایجنسی SPA نے اس خوش نصیب بچے کی اسٹوری شائع کی ہے۔ جس میں وہ 12 اگست کو مسجد الحرام کی مبارک دہلیز میں کھڑا تھا!وہی نوجوان جو ایک سال پہلے تک عیسائی تھا، آج اپنے سینے میں قرآن لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے حفاظِ قرآن کے درمیان اللہ کے مقدس گھر کے سائے تلے اور مبارک ترین شہر میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔اس وقت مکہ مکرمہ میں جاری 46ویں بین الاقوامی مقابلۂ شاہ عبدالعزیز میں 133 ممالک سے 334 مرد و خواتین شریک ہیں اور پینترا بھی انہی خوش نصیب قرآنی مسافروں میں شامل ہے۔ اب تمام شرکاء میں حافظ پینترا کی داستان سب سے دلفریب ہے۔ذرا ایک سال کے اس مختصر سفر کو دیکھیے:چودہ سال کی عمر میں اسلام سے تعارف… پھر کلمۂ اسلام… 5ماہ میں مکمل قرآن حفظ… تقریباً 500 شرکاء میں پہلی پوزیشن… پھر مکہ مکرمہ، مسجد الحرام، 133 ممالک کے حفاظ کے درمیان!
واقعی، قدرت کی نرالی شان ہے! میرا کریم رب جب نوازنا چاہے تو عقل حیران ہو جاتی ہے۔ایک سال پہلے وہ اسلام کی تلاش میں تھا، آج قرآن سینے میں لیے مکہ میں کھڑا ہے۔ ایک سال پہلے تک وہ تثلیث کا پیروکار تھا اور آج توحید کا علمبردار۔ پھر رب کا کرم ہوا تو اسے نہ صرف ایمان کی دولت سے نوازا، بلکہ قرآن بھی عطا کیا، آج وہ اپنے ملک برونڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کے ایک بڑے قرآنی اجتماع کا حصہ بن چکا ہے۔پینترا نے اس موقع پر سعودی عرب کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا کہ وہ قرآن کریم اور اس کے حفاظ کی سرپرستی اور خدمت کا خصوصی اہتمام کرتی ہے اور اسی مقابلے کے ذریعے دنیا بھر کے حفاظ کو مسجد الحرام کی حاضری کا شرف حاصل ہوتا ہے۔یہ قرآن کی کشش، ہدایت کی عظمت اور اللہ کی قدرت کی ایک دل نشیں تصویر ہے۔
واقعی: یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں