حسد وہ آگ ہے جو دوسروں سے پہلے اپنے ہی دل کو جلاتی ہے، جاوید اقبال گوندل

انسان کو دوسروں کی کامیابی اور خوشحالی دیکھ کر پریشان ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے، علامہ اقبال کمیونٹی سنٹر نیویارک کے چیئرمین کا خصوصی پیغام

رپورٹ:خصوصی نمائندہ

نیویارک (جاگیر نیوز): حسد ایک ایسی اندرونی آگ ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچانے سے پہلے خود انسان کے دل، سکون اور کردار کو جلا دیتی ہے۔
علامہ اقبال کمیونٹی سنٹر نیویارک کے چیئرمین چوہدری جاوید اقبال گوندل نے کہا ہے کہ انسان کو دوسروں کی کامیابی اور خوشحالی دیکھ کر پریشان ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ بعض لوگ دوسروں کی کامیابی سے اس لیے پریشان نہیں ہوتے کہ انہیں کوئی نقصان پہنچا ہے، بلکہ اس لیے کہ انہیں یہ بات گوارا نہیں ہوتی کہ کسی دوسرے شخص کو نعمت، عزت، کامیابی یا مقام کیوں ملا۔ یہی کیفیت حسد ہے، جو رفتہ رفتہ انسان کے دل کے سکون کو ختم کر دیتی ہے۔چوہدری جاوید اقبال گوندل نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے حسد سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے اور فرمایا: “حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ حسد صرف دوسرے کی خوشی سے نفرت کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے اپنے دل کے سکون اور روحانی کیفیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔چیئرمین علامہ اقبال کمیونٹی سنٹر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتیں اور مختلف نعمتیں عطا کی ہیں۔ کسی کو علم، کسی کو مال، کسی کو عزت، کسی کو اثر و رسوخ اور کسی کو خصوصی صلاحیت دی گئی ہے۔ ہر انسان کا حصہ مختلف ہے کیونکہ ہر انسان کا امتحان بھی مختلف ہے۔ اس لیے کسی دوسرے کی نعمت کو دیکھ کر جلنے کے بجائے انسان کو اپنی ذمہ داری، محنت اور کردار پر توجہ دینی چاہیے۔ حسد انسان کی نظر اور سوچ دونوں کو بدل دیتا ہے۔ جس شخص سے انسان حسد کرنے لگے، اس کی خوبی بھی عیب دکھائی دینے لگتی ہے، اس کی کامیابی سازش محسوس ہوتی ہے اور اس کی سچائی بھی قابلِ اعتراض نظر آتی ہے۔ اس طرح انسان حقیقت کو نہیں بلکہ اپنے دل کی جلن کو دیکھنے لگتا ہے۔انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمنی اور اختلاف کے باوجود انصاف کا حکم دیتا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: “کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (المائدہ: 8)ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں محبت، برداشت، ہمدردی اور انصاف کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی انسانوں کے ساتھ رحم و شفقت کی تعلیم دی اور فرمایا: “جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔” (صحیح بخاری) حسد محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ دل کی ایسی بیماری ہے جو ایمان کی مٹھاس، انسانوں کے لیے ہمدردی اور حقیقت کو انصاف کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو نفرت، بغض، حسد اور کینہ سے پاک کرنے کے لیے مسلسل خود احتسابی کرنی چاہیے۔ دوسرے کے چراغ سے ہماری روشنی کم نہیں ہوتی۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی دوسرے شخص کو ہم سے زیادہ عطا کیا ہے تو اس کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہمیں اپنے چراغ میں محنت، صبر، اخلاص اور مثبت سوچ کا تیل ڈالنا چاہیے۔آخر میں چوہدری جاوید اقبال گوندل نے کہا کہ حسد دوسرے شخص کو کم نہیں کرتا بلکہ حاسد کو اندر سے چھوٹا کر دیتا ہے۔ ایک صحت مند اور پُرامن معاشرے کی بنیاد اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا، ایک دوسرے کا احترام کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا سیکھیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں