گلیشیئرز کے تحفظ اور موسمیاتی مالی معاونت کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے، مصدق ملک
سفارت کاروں، پالیسی سازوں، محققین اور موسمیاتی ماہرین کی COP31 سے قبل گرین ورچوئل یونیورسٹی اور گرین کلاؤڈ کے قیام کی تجاویز اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور
رپورٹ:عبدالمالک
اسلام آباد (جاگیر نیوز) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ گلیشیئرز کے تحفظ، موسمیاتی تحقیق اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ موسمیاتی مالی معاونت کی منصفانہ تقسیم بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) میں منعقدہ پری-COP31 مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا عنوان ’’پیرس سے انطالیہ تک: آرکٹک اور ہندوکش قراقرم ہمالیہ کے خطے کے درمیان روابط کا فروغ‘‘ تھا۔ مکالمے کا مقصد گلیشیئرز کے تحفظ، موسمیاتی مالی معاونت اور دونوں خطوں کے درمیان سائنسی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث متاثرہ آبادیوں کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی مالی معاونت کا بڑا حصہ زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والی بڑی معیشتوں میں مرکوز ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی سائنسی تعاون کے لیے گرین ورچوئل یونیورسٹی، ماحول دوست ٹیکنالوجی کے نئے کاروباروں کے لیے خصوصی مالی معاونت اور سرکاری فنڈنگ سے ہونے والی تحقیق تک رسائی کے لیے گرین کلاؤڈ قائم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد سفیر معین الحق نے کہا کہ گلیشیئرز کا نقصان پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی کی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے آرکٹک اور ہندوکش قراقرم ہمالیہ کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور برفانی خطوں سے متعلق خطرات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔چیف ایگزیکٹو CSCCC عائشہ خان نے برفانی خطوں کے تحفظ کے لیے مضبوط بین الاقوامی نظام کی ضرورت اجاگر کی، جبکہ فرانس کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ژاں چارلس آلارد نے موسمیاتی تعاون اور سائنسی تحقیق کے لیے فرانس کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترکیہ کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن بیرک ایجے نے COP31 میں عملی اقدامات، موسمیاتی مالی معاونت اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کو اہم قرار دیا۔وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (اقوام متحدہ) عمر صدیق نے موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے قابل رسائی مالی وسائل، نقصانات کے ازالے کے لیے معاونت اور سرحد پار سائنسی معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔
مکالمے کے پینل میں سفیر شفقت کاکاخیل، نیپال کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن پرشوتم ڈھنگیل، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر خان گورایہ، ICIMOD کے ڈاکٹر فیصل معین قمر اور ناروے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر پاسکل ایمانوئل ایگلی نے شرکت کی۔ شرکاء نے علاقائی تعاون، گلیشیئرز کی نگرانی، قبل از وقت انتباہی نظام، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مقامی آبادیوں میں موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔اختتامی خطاب میں ISSI کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے قومی ترقیاتی منصوبہ بندی میں موسمیاتی لچک کو شامل کرنے، ملکی اداروں کو مضبوط بنانے اور سائنسی تحقیق کو قابل عمل پالیسیوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔یہ مکالمہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد، CSCCC اور فرانس کے سفارت خانے کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہوا، جس میں سفارت کاروں، پالیسی سازوں، محققین اور موسمیاتی ماہرین نے COP31 سے قبل موسمیاتی چیلنجز اور مشترکہ حل پر تبادلہ خیال کیا۔




