ذیا بیطس سینٹر میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے تعاون سے آگاہی سیمینار
پاکستان میں تقریبا 33 ملین، دنیا بھرمیں 537 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں،ڈاکٹرساجد محمود اشرف
پاکستان میں یہ شرح26.7 فیصد ہےیہ بڑھتا ہوا مسئلہ فوری توجہ کا طلبگار ہے کیو نکہ اس کے اثرات انسان کی صحت،خاند انوں اور ملک کے صحت کے نظام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں
ذیا بیطس سینٹر کے چیئر مین ڈاکٹر اسجد حمید کی زندگی بھرکی کو ششوں کا ذکر کرتے کہاکہ ذ یا بیطس سینٹر کا مقصد آگاہی اورضروری علاج فراہم کرنا اور آخر کار ایسے پاکستان کی تشکیل ہے جہاں ذیا بیطس قابو میں ہو،ڈاکٹرساجد محمود اشرف
اسلام آباد(جاگیرنیوز)ذیا بیطس سینٹر (ٹی ای سی) نےنیشنل پریس کلب اسلام آباد کے تعاون سے عالمی ذیابیطس ڈے 2024ءکے موقع پراپنے مرکز میں ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا، اس سیمینار کا مقصد کمیونٹی کوذیابیطس کے اسباب،اثرات اور اسکے انسانی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کےبارے میں آگاہی فراہم اورصحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا تھا، چیف آپر ٹینگ آفیسر ذیا بیطس سینٹر ڈاکٹرساجد محمود اشرف نے سیشن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ذیا بیطس فیڈریشن کے مطابق صرف پاکستان میں تقریبا 33 ملین جبکہ دنیا بھرمیں 537 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں، دنیامیں ذیابیطس کے مریضوں کی آبادی کے تناسب سے 10.5 فیصدہے۔ جبکہ پاکستان میں یہ شرح26.7 فیصد ہےیہ بڑھتا ہوا مسئلہ فوری توجہ کا طلبگار ہے کیو نکہ اس کے اثرات انسان کی صحت،خاند انوں اور ملک کے صحت کے نظام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں.

انہوں نے ذیا بیطس سینٹر کے چیئر مین ڈاکٹر اسجد حمید کی زندگی بھرکی کو ششوں کا ذکر کرتے کہاکہ ذ یا بیطس سینٹر کا مقصد آگاہی اورضروری علاج فراہم کرنا اور آخر کار ایسے پاکستان کی تشکیل ہے جہاں ذیا بیطس قابو میں ہو،انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں ایک سال میں 1.5 املین لوگ شوگر کی پیچیدگیوں سے مر جاتے ہیں جبکہ صرف پاکستان میں انکی شرح 5.35فیصدہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے،پاکستان اور دنیا بھر میں ہر دولاکھ میں سے ایک بچے کو شو گر ہوتی ہے جسکا حکومت کی طرف سے تشخیص کا پرائمری یا سیکنڈری ہیلتھ کئیر میں کوئی ہے پروگرام موجود نہیں ہے،

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ذیا بیطس سینٹر ڈاکٹر احسن نثارنےذیابیطس کی وجوہات پر بات کرتےہوئےصحت مند طرز زندگی کی اہمیت پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ ذیا بیطس کو مناسب طرز زندگی اختیار کر کے روکا جاسکتا ہے، متوازن غذا باقاعدہ ورزش اور وزن کو کنٹرول کرنا اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مشکل ترین سفر کاآغاز ایک کنٹینر سے شروع کیا گیا اورآج الحمد للہ اسلام آباد سمیت لاہور، ساہیوال، فیصل آباد، کراچی، راولا کوٹ ، میر پور آزاد کشمیر، تونبی سمیت اسٹریلیا، انگلینہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی ٹی ڈی سی اپنا کام شروع کر چکا ہے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر اظہر جتوئی نے میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈ یا عوام کوذیابیطس کی روک تھام، علامات اور علاج کے بارے میں آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،میڈ یا عوام کو صحیح معلومات فراہم کرنے کا ایک اہم ٹول ہے، اور ہمیں ان ٹولز کو استعمال کرتےہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہیے،ذیا بیطس کی تھی اور اس کے معاشرتی اثرات کو سمجھتا اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے، یہاں آنے کا فائدہ ہوا ہے، ڈاکٹر کی بھی تربیت ہونا چاہیئے، یہ ہسپتال عوام کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں،یہان پر شوگر کے حوالے سے تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے موجود ہیں،پاکستان میں صحت اور تعلیم کبھی بھی کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہی ہیں،انہوں نے این پی سی اور ٹی ڈی سی کیساتھ ایم او یو سائن کرنے اور اور این پی سی میں شوگر کیمپ لگانے کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کیں، جن کو ٹی ڈی سی کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر ساجد محمود اشرف نے سراہا اور بہت جلد ان پر عملدرآمد کرنے کا وعدہ کیا۔

ڈاکٹر ساجد محمودی او اونی ڈی سی نے مزید کہا کہ ٹی ڈی سی شوگر کا ایک مکمل ہسپتال ہے جس میں شوگر سے جڑی ہر پیچیدگی مثلا”دل کے امراض، گردے کے امراض ڈا ئیلیسزسنٹر فٹ کیئر ، مینٹل ہیلتھ کلینک، نیوٹریشن کلینک ، آنکھوں کے کلینک کے علاوہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے تعاون سے انسٹی ٹیوٹ آف اینڈو کرائنالوجی اور ڈائیبیٹالوجی بھی کام شروع کر چکا ہےاس پروگرام میں شرکاء کو ماہرین صحت سے سوالات کرنے اور ذیا بیطس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کا موقع ملاذیا بیطس سنٹر اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے اس تعاون نے ذیا بیطس کے بارے میں آگاہی پھیلانے اور افراد کو صحت مند زندگی گزارنے کے لیے درکارمعلومات فراہم کرنے کے اہمیت کو اجاگر کیا۔قبل ازیں ٹی ڈی سی کی ہیڈ آف مارکیٹنگ مس نوین نے ٹی ڈی سی کےسسٹم کے حوالے سےصدر این پی سی اور میڈیا نمائندگان کو بریف کیا۔




