نوجوان پولیو کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں:عظمٰی کاردار

تقریب کا مقصد نوجوانوں کو اس بات پر ابھارنا تھا کہ وہ فن اور ابلاغ کے ذریعے صحت کی ترویج اور ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کے خاتمے میں کردار ادا کریں

راولپنڈی:( جاگیرنیوز ) پاکستان کے نوجوان تبدیلی کے علمبردار ہیں، ان کی تخلیقی صلاحیت، توانائی اور ذمہ داری کا احساس ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی فوکل پرسن برائے پولیو عظمٰی کاردار نے فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں منعقدہ طلبہ کی آرٹ نمائش سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش پنجاب ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس میں طلبہ کی تیار کردہ متاثرکن گرافک تخلیقات کو”پولیو کے خاتمے اور عوامی آگاہی” کے موضوع پر پیش کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد نوجوانوں کو اس بات پر ابھارنا تھا کہ وہ فن اور ابلاغ کے ذریعے صحت کی ترویج اور ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کے خاتمے میں کردار ادا کریں۔ عظمٰی کاردار نے طلبہ کے تخلیقی کام کو سراہتے ہوئے کہاکہ فن ایک عالمی زبان ہے جو دلوں اور ذہنوں کو جوڑتی ہے۔ طلبہ کے یہ فن پارے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہر شہری، خاص طور پر نوجوان، پولیو کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سچائی کے سفیر بنیں اور افواہوں و غلط معلومات کا مقابلہ کریں جو ویکسینیشن مہمات میں رکاوٹ بنتی ہیں۔آپ کی آواز اہم ہے۔ اپنے فن، تعلیم اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ پیغام عام کریں کہ ویکسینیشن بچوں کی زندگیاں بچاتی ہے اور پاکستان کو صحت مند بناتی ہے وائس چانسلر ایف جے ڈبلیو یو پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے عوامی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایف جے ڈبلیو یو ہمیشہ کمیونٹی انگیجمنٹ اور سماجی ذمہ داری کے لیے سرگرم رہا ہے۔ ہم یونیورسٹی میں عوامی صحت، بالخصوص پولیو کے خاتمے سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے ایک خصوصی پلیٹ فارم قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ڈاکٹر ثروت رسول، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز، اور سدرہ اشرف، اسسٹنٹ پروفیسر نے بھی شرکاء سے خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فن معاشرتی تبدیلی اور اجتماعی ذمہ داری کے فروغ کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب بھی جنگلی پولیو وائرس گردش کر رہا ہے۔ حکومت اپنے شراکت داروں بشمول یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور روٹری انٹرنیشنل کے تعاون سے، ہر بچے تک پولیو ویکسین کے تحفظ کے قطرے پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے ضرور پلائیں تاکہ عمر بھر کی معذوری سے تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں