پیکڈ دودھ پر جی ایس ٹی کو کم کرکے دس فیصد کیا جائے،ڈاکٹر شہزاد امین،عثمان ظہیر احمد
قیمتوں کی حد (پرائس کیپس ) کا خاتمہ، ڈیری پروسیسنگ کیلئے سبسڈائزڈانرجی ٹیرف (بجلی گیس کے نرخ)، نیشنل ڈیری پالیسی کی تیاری، ملک بھر میںکم از کم پاسچرائزیشن قانون کا نفاذ کیا جائے،پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن
رپورٹر :عبدالمالک
اسلام آباد:(جاگیرنیوز)نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سی ای او پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن ڈاکٹر شہزاد امین،چیئرمین اور سی ای او فوجی فوڈزعثمان ظہیر احمد و دیگر نےایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ لاہور میں سیف ملک(محفوظ دودھ)کے پائلٹ پراجیکٹس قائم کئے جائیں تاکہ پاکستان میں غذائی بحران سے نمٹنے،دیہی معاش کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کو بہتر بنانےاور قومی ٹیکس بیس کو وسعت دی جاسکے.
انہوں نےپاکستان کے غذائی بحران سے نمٹنے، دیہی معاش کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کو بہتر بنائے، اور قومی ٹیکس بیس کو وسعت دینے کے لیے ڈیری سیکٹر کی ہنگامی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ دودھ غذائیت کی فراہمی کے سستے ترین اور مؤثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے، جو بچوں کی نشوونما، قوت مدافعت، ماں کی صحت اور ذہنی ترقی کے لیے ضروری ہے، پاکستان کا ڈیری سیکٹر زراعت کا سب سے بڑا جزو ہے اور غذائیت معاشی ترقی اور دیہی روزگار کا ایک اہم ستون ہے، سالانہ 4۔72 ارب لٹر کے ساتھ دنیا کا چوتھا بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجودیہ شعبہ 95 فیصد غیر رسمی غیر دستاویزی کم پیداواری اور غیر منظم ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اور سستا دودھ ہر پاکستانی شہری کا آئینی حق ہے، پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا 40 فیصد بچے اسٹنٹنگ (کم نشوونما) کاشکار ہیں، جبکہ غذائی قلت کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 7.6ارب امریکی ڈالر( جی ڈی پی کا 3 فیصد) کا نقصان ہوتا ہے، انہوں نے بتایا کہ تجارت کے قابل دودھ کے صرف 50 فیصد کو رسمی (دستاویزی) دھارے میں لانے سے تقریباساڑھے سات ٹریلین روپے کا ٹیکس حاصل ہو سکتا ہے اور جی ایس ٹی کی مد میں 1300 ارب روپے سے زائد کی آمدن ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی اور غذائیت کے نتائج میں بھی بہتری آئے گی، انہوں نے مزید کہا کہ ڈیری کی صنعت پاکستان کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہےجو زرعی جی ڈی پی میں تقریبا 65 فیصد اور قومی جی ڈی پی میں14.7فیصد حصہ ڈالتی ہے، اور تقریبا 10 ملین دیہی خاندانوں اور 50 ملین لوگوں کو روزگارفراہم کرتی ہے۔کھلے دودھ کے برعکس پیکڈ دودھ صارفین تک پہنچنے سے پہلے باقاعدہ پروسیسنگ، کولڈ چین مینجمنٹ، اور متعدد حفاظتی و معیاری جانچ پڑتال سے گزرتا ہے،ایسوسی ایشن رہنماؤںنےلیکونڈ اور خشک دودھ پر پاکستان کے 18 فیصد جی ایس ٹی پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر سب سے زیادہ قرار دیاکیونکہ اس کے مقابلے میں ان بیشتر ممالک میں جہاں دودھ کو ایک لازمی غذائی نے سمجھا جاتا ہے یہ شرح 0 سے 5 فیصد ہے۔ پی ڈی اے نے موقف اختیار کیا کہ زیادہ ٹیکس محفوظ دودھ کو عامآدمی کی پہنچ سے دور کر دیتا ہے اور صارفین کو غیر محفوظ کھلے دودھ کی طرف دھکیلتا ہے اور غیر رسمی معیشت کو مضبوط کرتا ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیری سیکٹر کی اصلاحات غذائیت کو بہتر بنانے ، کسانوں کے روزگار کو مضبوط بنائے، معیشت کو رسمی بنائے، موسمیاتی لچک کو سہارا دینے، اور مالیاتی پائیداری کو بڑھانےکیلئے آئندہ بجٹ میں ڈیری اصلاحات کو ترجیح دیں اور ڈیری کو پاکستان کی معاشی ترقی عوامی صحت اور قومی ترقی کے اسٹریٹجک محرک کے طور پر تسلیم کریں۔




