کیا واقعۂ کربلا کے وقت روئے ارض پر صرف 72 افراد حسینی فکر کے حامل تھے؟

تحریر: عبدالستار منہاجین

موجودہ دور کے سوشل میڈیا بیانیے میں بعض اوقات تاریخ کو جذباتی تعبیر دے کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے فکری گمراہی پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اکثر یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے کہ فتح مکہ کے صرف 53 سال بعد، اسلام کی نظریاتی اور اخلاقی بنیادیں اس قدر کمزور ہوچکی تھیں کہ پورے عالم اسلام میں صرف 72 افراد ہی حسینی فکر و فلسفہ کے علمبردار رہ گئے تھے۔ یہ بات بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک انتہائی گمراہ کن تعبیر ہے، جس کے ذریعے اسلامی تاریخ، ایمانِ صحابہ و تابعین اور فکری تنوع کے ساتھ شدید ناانصافی کی جاتی ہے۔ محرم الحرام ہمیں نظریاتی و عملی سطح پر تفرقہ کو ہوا دینے کی بجائے اتحاد و اخوت کا پیغام دیتا ہے۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ موجود جانثاران کی تعداد اس بات کی علامت نہیں کہ صرف اتنے ہی لوگ حق پر تھے، بلکہ یہ وہ افراد تھے جنہیں وقت پر اِطلاع ملی، حالات نے ساتھ دیا اور اُس کے نتیجے میں وہ کربلا پہنچ سکے۔ ہاں البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے یہ سعادت صرف اُنہی افراد کو ملی جو اُس موقع پر سیدنا اِمام حسینؑ کے شانہ بشانہ موجود تھے۔ ہماری جان، مال، عزت و آبرو سب کچھ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام پر قربان، مگر ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اِسلام ہمیں اِعتدال و توازن اور عدل و اِنصاف کا درس دیتا ہے۔ سیدنا اِمام حسینؑ اور اُن کے جانثار ساتھیوں کی مدح و عقیدت بجا، مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کہیں ہم لاشعوری طور پر اُس دور میں برآعظم ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں میں بسنے والے لاکھوں باایمان مسلمانوں کے ایمان و اخلاص کو مشکوک تو نہیں بنا رہے؟ آج کی ہماری نئی نسل جب سوشل میڈیا پوسٹس دیکھتی ہے تو اُن کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا اُس وقت صرف 72 افراد ہی اہلِ حق تھے اور باقی تمام اُمتِ مسلمہ یزید کی ساتھی بن چکی تھی؟ اگر آج ہم نے فرطِ عقیدت میں اِعتدال کا دامن چھوڑ دیا تو ممکن ہے کہ ہم غیر اِرادی طور پر اُن لاکھوں مخلص اہلِ ایمان کے بارے میں نئی نسل کے اِعتقاد میں خلل ڈال بیٹھیں، جو کربلا میں جسمانی طور پر تو شریک نہ ہوسکے، مگر فکری اور قلبی طور پر حسینی تھے۔ یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ کربلا کا واقعہ ایک وسیع اسلامی ریاست کے عہد میں پیش آیا، جس کی سرحدیں مشرق میں ہندوستان سے لے کر مغرب میں افریقہ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں نہ میڈیا تھا، نہ برق رفتار پیغام رسانی، نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی خبر کی فوری ترسیل۔ چنانچہ یہ کہنا کہ صرف 72 افراد ہی حسینی فکر کے حامل تھے، اس سے دین کے اُن ستاروں پر ناحق حرف لاتا ہے جنہیں خود رسول اللہ ﷺ نے ایمان، تقویٰ اور فہم دین کا معیار قرار دیا تھا۔ کربلا میں شریک نہ ہو سکنے والے ہزاروں صحابہ و تابعین ایسے بھی تھے جنہوں نے بعد میں یزید کے طرز حکومت کو دل سے قبول نہیں کیا، بلکہ بعض نے بغاوت بھی کی، بعض نے خاموش احتجاج کیا، اور بہت سوں نے اہل بیت اطہارؑ سے اپنی وابستگی کا کھل کر اظہار کیا۔ یاد رکھیں کہ حسینی فکر ایک محدود گروہ نہیں، ایک زندہ تحریک ہے۔ حسینی فکر کسی خاص جغرافیہ، قبیلہ یا وقت تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر اُس فرد کے اندر زندہ ہے جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، جو حق پر ڈٹ جائے، جو ضمیر کے سودے نہ کرے اور جو دین کی بقاء کو جان پر ترجیح دے۔ تاریخ کے ہر دور میں لاکھوں ایسے افراد گزرے جنہوں نے حسینی فلسفے پر عمل کیا، اگرچہ وہ کربلا میں موجود نہ تھے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم کربلا کے 72 افراد کی تعداد کو اُمتِ مسلمہ کے نظریاتی زوال کی علامت نہ بنائیں بلکہ اُن کے کردار کو حق کی سربلندی، قربانی، جرأت اور غیرت کا اِستعارہ اور اِمام حسین علیہ السلام کے ہمرکاب قافلہ کربلا میں شریک ہونے والوں کیلئے عظیم سعادت سمجھیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر، ہمیں نئی نسل کے دل میں اُن لاکھوں افراد کے ایمان کو مشکوک نہیں ٹھہرانا چاہئے جو حالات، وسائل یا معلومات کی کمی کے سبب میدانِ کربلا میں شریک نہ ہوسکے، مگر دل و جان سے حسینی تھے، حسینی ہیں اور قیامت تک حسینی رہیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں