چھوٹےکاشتکاروں کی مدد کے لیے اے آئی میدان میں آگئی

     
ایگرو نومی  نے جنوبی ایشیا میں ڈیزیز انٹیلیجنس انجن (ڈی آئی ای) کو وسعت دے دی اور جنوبی ایشیا میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے

“ہم بڑے پیمانے کی زراعت کے لیے تیار کی گئی کسی مصنوعات کو محض اٹھا کر ایک نئی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرا رہے۔ ہم خطے کے لوگوں کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہے ، اسکاٹ پلاٹو

فصلوں کی پیداوار کا تحفظ صرف ایک مقامی زرعی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق خوراک کی دستیابی، دیہی روزگار اور عالمی غذائی نظام کی مضبوطی سے ہے، میٹ فرائی

اسلام آباد:(جاگیرنیوز) امریکہ میں قائم مصنوعی ذہانت (AI) پلیٹ فارم ایگرو نومی نے جنوبی ایشیا کے لیے اپنے ڈیزیز انٹیلیجنس انجن
(Diseases Intelligence Engine ) کے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو فصلوں میں بیماریوں کے خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے اور بروقت فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔جنوبی ایشیا میں اس اقدام کا مقصد بیماریوں سے متعلق مفید معلومات براہِ راست کاشتکاروں تک پہنچانا ہے، جنہیں عموماً جدید زرعی خدمات اور بیماریوں سے متعلق ابتدائی وارننگ سسٹمز تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔ڈیزیز انٹیلیجنس انجن زرعی ماہرین ، زرعی مصنوعات کے ریٹیلرز اور صنعت سے وابستہ اداروں کو بھی زیادہ باخبر اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ابتدائی مرحلے میں توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ فصلوں میں بیماریوں کی جدید ٹیکنالوجی کو چھوٹے کاشتکاروں کی دسترس میں لایا جائے۔ (Agtrinsic)خطے میں موجود ایک ٹیم کے ساتھ مل کر ایک موبائل ایپلی کیشن تیار کر رہی ہے، جسے مارکیٹ میں متعارف کرایا جائے گا۔یہ ایپلی کیشن خطے میں کاشت کی جانے والی فصلوں، بیماریوں کے خطرات، زرعی طریقۂ کار اور مقامی زبانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جا رہی ہے۔ایک تحریری بیان کے مطابق، چھوٹے کاشتکار علاقائی زراعت اور عالمی غذائی تحفظ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں، مقامی برادریوں اور بڑی سپلائی چینز کے لیے خوراک پیدا کرتے ہیں، تاہم فصلوں میں بیماریوں کے خطرے کی صورت میں بڑے فارموں کے مقابلے میں انہیں تکنیکی، مالی اور زرعی مشاورتی وسائل کم دستیاب ہوتے ہیں۔ایگرو نومی انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر اسکاٹ پلاٹو نے کہا، “تاریخی طور پر بروقت بیماریوں سے متعلق معلومات سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے کاشتکار ہی ان معلومات تک سب سے کم رسائی رکھتے رہے ہیں۔ ہمارا مقصد اس صورتحال کو تبدیل کرنا ہے اور اس ٹیکنالوجی کو چھوٹے کاشتکاروں کے لیے عملی، کم لاگت اور آسانی سے قابلِ رسائی بنانا ہے۔”
اس ٹیکنالوجی کا ایک اور مقصد کاشتکاروں کو فصلوں میں بیماریوں کے ممکنہ خطرات کی پہلے سے نشاندہی کرنے، کھیتوں کے معائنے کو ترجیح دینے اور فصلوں کے تحفظ سے متعلق زیادہ باخبر فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔پلاٹو نے کہا، “ہم بڑے پیمانے کی زراعت کے لیے تیار کی گئی کسی مصنوعات کو محض اٹھا کر ایک نئی مارکیٹ میں متعارف نہیں کرا رہے۔ ہم خطے کے لوگوں کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے تجربے کو مقامی کاشتکاروں، فصلوں اور دیہی برادریوں کی ضروریات کے مطابق قدرتی انداز میں تشکیل دیا جا سکے۔”انہوں نے کہا  کہ موبائل ایپلی کیشن مقامی طور پر اہم فصلوں اور بیماریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرے گی اور ایک سادہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کاشتکاروں کو بیماریوں کے خطرات سے متعلق الرٹس، کھیت کی سطح کی معلومات اور عملی فیصلے کرنے میں معاونت فراہم کرے گی۔کمپنی زرعی مصنوعات کے ریٹیلرز، پروسیسرز، برآمد کنندگان، کوآپریٹو اداروں، اسپرے سروس فراہم کرنے والوں اور دیگر ایسے اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے جو چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت کرتے ہیں۔مقامی ٹیم مصنوعات کی تیاری، مقامی ضروریات کے مطابق ٹیکنالوجی میں تبدیلی، فیلڈ ٹیسٹنگ، کاشتکاروں کے ساتھ رابطے اور تجارتی سطح پر ایپلی کیشن کے اجراء میں معاونت کرے گی Agtrinsic کا کہنا ہے کہ یہ مقامی شراکت داری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہوگی کہ ٹیکنالوجی روزمرہ کے زرعی فیصلوں میں متعلقہ، قابلِ اعتماد اور قابلِ استعمال ثابت ہو۔دریں اثنا، ایگرو نومی (Agronomi) کے نائب صدر میٹ فرائی نے کہا،“فصلوں کی پیداوار کا تحفظ صرف ایک مقامی زرعی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق خوراک کی دستیابی، دیہی روزگار اور عالمی غذائی نظام کی مضبوطی سے ہے۔ جب ان کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کے تحفظ کے بہتر ذرائع میسر ہوں گے تو اس کے فوائد صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔”جنوبی ایشیا میں یہ آغاز اAgtrinsic کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف فصلوں، زرعی نظاموں اور خطوں تک بیماریوں سے متعلق جدید معلومات پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس ٹیکنالوجی کے لیے امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر پیٹنٹ کے تحفظ کے حصول کا عمل جاری ہے۔
ایپلی کیشن، علاقائی دستیابی اور فیلڈ پروگرامز سے متعلق مزید تفصیلات ٹیکنالوجی کی تیاری اور آزمائش میں پیش رفت کے ساتھ جاری کی جائیں گی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ Agtrinsic زرعی پیداوار کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی حل تیار کرتی ہے اور اس کا مقصد مختلف حجم کے فارموں اور مختلف زرعی خطوں کے لیے جدید زرعی معلومات کو قابل رسائی بنانا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں