سیمی فائنل تک رسائی اولین ہدف ہے،ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانوقومی فٹبال ٹیم
مقابلے میں ہر ٹیم ایک سخت چیلنج ثابت ہوگی، پاکستان اس چیلنج کے لیے پُرعزم اور پُراعتماد ہے
ہم ایک مضبوط ٹیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم اپنی منزل سے زیادہ دور نہیں
ہمیں ہر میچ کو فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا، پہلا فائنل بھارت کے خلاف اور دوسرا مالدیپ کے خلاف کھیلیں گے
اسلام آباد:(جاگیر نیوز) پاکستان مینز نیشنل فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو نے سیف چیمپئن شپ 2026ء سے قبل اپنی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کو اولین ہدف قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کی کامیابی کے لیے اجتماعی کوشش، جسمانی فٹنس اور ملک میں فٹبال کے طویل مدتی فروغ کے لیے مضبوط ڈھانچے کی تشکیل ناگزیر ہے۔اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں پیر کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سولانو نے تسلیم کیا کہ مقابلے میں ہر ٹیم ایک سخت چیلنج ثابت ہوگی، تاہم ان کے مطابق پاکستان اس چیلنج کے لیے پُرعزم اور پُراعتماد ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہر مقابلہ ہمیشہ کی طرح بہت سخت ہوتا ہے اور ہم اس چیلنج کے منتظر ہیں۔ ہم ایک مضبوط ٹیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم اپنی منزل سے زیادہ دور نہیں۔ ہم مالدیپ میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں، ہمیں مقابلے کی سطح کا اندازہ ہے اور ہم انڈونیشیا میں بھی کھیل چکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔پاکستان گروپ مرحلے میں بھارت اور مالدیپ کے مدمقابل ہوگا۔ سولانو نے واضح کیا کہ ٹیم کی پہلی ترجیح سیمی فائنل میں جگہ بنانا ہے۔انہوں نے کہاہم قدم بہ قدم آگے بڑھیں گے۔ جمعرات کو بھارت کے خلاف بڑا مقابلہ ہے، جس کے بعد مالدیپ سے میچ ہوگا۔ ہماری توجہ ان دونوں میچز پر ہے تاکہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکیں۔ ہمیں ہر میچ کو فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا۔ پہلا فائنل بھارت کے خلاف اور دوسرا مالدیپ کے خلاف ہوگا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے سولانو نے اپنے ملک پیرو اور چلی کی فٹبال رقابت سے موازنہ کیا۔انہوں نے کہا،پیرو اور چلی کا مقابلہ بھی پاکستان اور بھارت جیسا ہی ہے، اس میں بھی اتنی ہی شدت ہوتی ہے۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ یہ میچز شائقین کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ان کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔سولانو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فٹبال ایک اجتماعی کھیل ہے اور کامیابی کے لیے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں متحد ہو کر کھیلنا ہوگا۔ یہ کسی ایک کھلاڑی کا نہیں بلکہ اجتماعی کھیل ہے۔ چاہے ہم حملہ کریں یا دفاع، ہمیں ایک ٹیم کی حیثیت سے کھیلنا ہوگا۔‘‘پاکستان کو مقابلے کے ابتدائی مرحلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی کیونکہ چیمپئن شپ فیفا انٹرنیشنل میچ ونڈو میں منعقد نہیں ہو رہی۔ تاہم سولانو نے واضح کیا کہ اسے کسی قسم کا جواز نہیں بنایا جائے گا اور مقامی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس مقابلے کے آغاز میں ہم اپنے ڈائسپورا کھلاڑیوں کو شامل نہیں کر سکتے کیونکہ یہ فیفا ونڈو کے دوران منعقد نہیں ہو رہا۔ تاہم ہم مقامی کھلاڑیوں کو موقع دے رہے ہیں اور یہاں موجود صلاحیتوں کو دیکھ رہے ہیں۔ کوئی بہانہ نہیں، ہمیں اپنے کھلاڑیوں پر یقین ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ قومی ٹیم کے دروازے ہر اس کھلاڑی کے لیے کھلے ہیں جس میں صلاحیت اور درست ذہنیت موجود ہو۔ہم اپنے ٹیلنٹ پول کو بتدریج وسعت دے رہے ہیں۔ پاکستان کے کھیل کے انداز پر بات کرتے ہوئے سولانو نے کہا کہ ٹیم کی اولین ترجیح دفاعی استحکام برقرار رکھنا ہے، تاہم پورے 90 منٹ تک توجہ برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہاہم سب سے پہلے ایک مستحکم ٹیم بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ گول نہ ہونے دیں کیونکہ ہمارے مضبوط ترین کھلاڑی دفاعی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انڈونیشیا میں فیفا آسیان کپ کے دوران ہمیں تھائی لینڈ کے خلاف 0-4 سے شکست ہوئی تھی۔ اس تجربے نے ہمیں سکھایا کہ پورے 90 منٹ تک توجہ برقرار رکھنا کتنی ضروری ہے کیونکہ ایک لمحے کی غفلت بھی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔سولانو نے پاکستان میں فٹبال کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مضبوط ڈومیسٹک ڈھانچے اور کلبوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور اس ضمن میں اپنے ملک پیرو کی مثال دی۔ان کا کہنا تھا’’ہمیں آگے دیکھنا ہوگا، ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے لیکن ان نوجوان کھلاڑیوں کو مدد کی ضرورت ہے،انہیں ایک مضبوط ڈھانچہ اور کلبز درکار ہیں، یہی صورتحال میرے ملک پیرو میں بھی تھی، اسی طرح نوجوان کھلاڑی بہتر ہوتے گئے اور ان کی صلاحیتوں میں مسلسل نکھار آتا گیا۔‘‘
انہوں نے آئندہ سال پاکستان میں پروفیشنل فٹبال لیگ کے آغاز کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کھلاڑیوں کی جسمانی تیاری اور کھیل کے معیار میں بہتری کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔سولانو نے کہا’’اس نسل کے کھلاڑیوں کو جسمانی طور پر فٹ ہونا اور زیادہ دوڑنا ہوگا، ہمارے لیے یہ بڑی خوشخبری ہے کہ پاکستان میں اگلے سال پروفیشنل لیگ ہوگی،ہمارے موجودہ کھلاڑیوں کو کبھی پری سیزن کی سہولت نہیں ملی،پری سیزن ایک کھلاڑی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ یہ پورے سیزن کی تیاری کی بنیاد رکھتا ہے،انشاء اللہ، جلد ہمارے پاس بھی یہ سہولت ہوگی۔ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ ٹیم کی فارمیشن کا فیصلہ دستیاب کھلاڑیوں اورحریف ٹیم کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا،جس کے لیےحکمت عملی میں لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔پاکستان سیف چیمپئن شپ 2026ء میں اپنی مہم کا آغاز جمعرات کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کرے گا۔ سولانو نے اس مقابلے کو ٹیم کے لیے پہلے بڑے امتحان کے طور پر قرار دیا ہے۔ گرین شرٹس کا دوسرا گروپ میچ مالدیپ کے خلاف ہوگا، جہاں سیمی فائنل میں رسائی کے لیے کامیابی اہم ہوگی۔




