پاکستان ،قازقستان مشترکہ باکسنگ کوچنگ کیمپ اختتام پذیر، باکسنگ کے روشن مستقبل کی نوید
باکسنگ حلقوں میں اس کیمپ کو ایک خوش آئند اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا تعاون مسلسل جاری رہا تو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی پاکستانی باکسنگ کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوسکتی ہیں
رپورٹر :عبدالمالک
اسلام آباد:(جاگیرنیوز) پاکستان اور قازقستان کے درمیان باہمی کھیلوں کے تعاون کے تحت منعقدہ مشترکہ باکسنگ کوچنگ و ٹریننگ کیمپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ حکومت قازقستان کی وزارت کھیل اور حکومت پاکستان کی وزارت بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس تربیتی پروگرام کی نگرانی پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے کی۔
باکسنگ کے حلقوں میں اس کیمپ کو ایک خوش آئند اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا تعاون مسلسل جاری رہا تو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی پاکستانی باکسنگ کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوسکتی ہیں۔پاکستان باکسنگ کے سینئر رہنما اور بین الاقوامی ریفری جج علی اکبر شاہ قادری نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے باکسنگ تعلقات کی تاریخ تین دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1994ء کے ہیروشیما ایشین گیمز سے لے کر مختلف بین الاقوامی مقابلوں تک دونوں ممالک نے باکسنگ کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں منعقدہ سیف گیمز 2004ء سے قبل پاکستان باکسنگ ٹیم کو قازقستان کے تربیتی دورے پر بھیجا گیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور پاکستان نے سیف گیمز میں ریکارڈ 10 طلائی تمغے حاصل کیے۔علی اکبر شاہ قادری نے کہا کہ سڈنی اولمپکس 2000ء اور ایتھنز اولمپکس 2004ء کے کوالیفائنگ مقابلوں میں بھی قازقستانی باکسرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے مضبوط روابط مزید مستحکم ہوئے۔انہوں نے 15 برس بعد اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان۔قازقستان مشترکہ تربیتی کیمپ کو ماضی کی یادوں کا احیاء قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی باکسنگ کے لیے ایک نئی امید اور مثبت پیش رفت ہے۔انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر لیفٹیننٹ کرنل (ر) ناصر اعجاز تنگ، میجر محمد عرفان یونس، وزارت آئی پی سی، پاکستان اسپورٹس بورڈ اور حکومت پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے بین الاقوامی تربیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری رہے گا۔




