نجی مقابلوں میں شرکت کو قومی نمائندگی قرار نہ دیا جائے، پی بی ایف
پی بی ایف باکسنگ کے شعبے میں قومی نمائندگی کی سالمیت، شفافیت اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے
پیشہ ورانہ باکسنگ اور سرکاری نمائندگی میں واضح فرق ہے، میڈیا اور پروموٹرز فیڈریشن سے تصدیق اور توثیق لازمی حاصل کریں: ترجمان پی بی ایف
رپورٹ :عبدالمالک
اسلام آباد :(جاگیر نیوز) پاکستان باکسنگ فیڈریشن (پی بی ایف) نے ملک میں باکسنگ کی سرکاری قومی نمائندگی اور نجی یا تجارتی بنیادوں پر ہونے والے پیشہ ورانہ مقابلوں میں شرکت کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتے ہوئے وضاحتی اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ فیڈریشن کے مطابق پاکستان کی سرکاری سطح پر نمائندگی کرنا ایک عظیم اعزاز ہے جو صرف میرٹ، کڑے مقابلے اور باقاعدہ انتخاب کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ میرٹ پر منتخب ہونے والے باکسرز ہی بڑے برآعظمی، کامن ویلتھ اور اولمپک ایونٹس جیسے تسلیم شدہ بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کا پرچم بلند کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔پی بی ایف نے وضاحت کی کہ نجی یا تجارتی بنیادوں پر ہونے والے پیشہ ورانہ مقابلوں میں حصہ لینے والا پاکستانی باکسر محض انفرادی حیثیت میں میدان میں اترتا ہے۔ صرف پاکستانی شہری ہونا اس بات کی دلیل یا (دلالت) نہیں کرتا کہ اس کا پیشہ ورانہ مقابلہ پاکستان یا پی بی ایف کی طرف سے ہے۔ فیڈریشن نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جس طرح کرکٹ کی تجارتی فرنچائز لیگز میں کھیلنے والا کھلاڑی محض اپنی فرنچائز کی نمائندگی کرتا ہے، بالکل اسی طرح نجی باکسنگ مقابلوں میں حصہ لینے والے بعض کھلاڑی ممکنہ طور پر کبھی قومی ٹیم کا حصہ بھی نہیں رہے ہوتے۔ترجمان پی بی ایف نے مزید کہا کہ فیڈریشن باکسرز کے پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے کے حق کا احترام کرتی ہے، تاہم نجی مقابلوں کو سرکاری قومی نمائندگی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ پی بی ایف نے تمام میڈیا اداروں، پروموٹرز، اسپانسرز اور اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ایونٹ کو قومی نمائندگی کے طور پر رپورٹ کرنے سے قبل فیڈریشن سے تصدیق اور توثیق لازمی حاصل کریں۔ پی بی ایف باکسنگ کے شعبے میں قومی نمائندگی کی سالمیت، شفافیت اور درست معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔




